یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے


یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے

جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے

 

ہر خطا کار پہ رحمت کی نظر ہو جیسے

رات کے بعد زمانے میں سحر ہو جیسے

 

جس طرح گم کردہ منزل کو منزل کا سراغ

جس طرح تاریکیوں میں نورِ وحدت کا چراغ

زندگی جیسے ملے مردوں کو جینے کے لیے

جیسے طوفان میں ساحل ہو سفینے کے لیے

 

یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے

جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے

 

جرم کو دامنِ رحمت میں چھپانے کے لیے

ہر برے حال میں امت کو بچانے کے لیے

ہم بگڑنے کے لیے آپ بنانے کے لیے

 

ظالموں سے زیر دستوں کو چھڑایا آپ نے

آدمی سے آدمی کا حق دلایا آپ نے

دوستوں پر مہربانی ، دشمنوں پر شفقتیں

رحمت للعلمین بن کر دکھایا آپ نے

 

 

جاگتے رہتے تھے راتوں کو محمد معصوم

یوں انہیں دیکھ کر ہو جاتی تھی دائی مغموم

لوریاں گا کے مچا دیتی تھی گھر میں اک دھوم

ہائے یہ راز حلیمہ کو نہیں تھا معلوم

وہ نہیں سوتے جو آتے ہیں جگانے کے لیے

 

 

آپ سے پہلے زمانے کی عجب حالت تھی

آدمی، جہل مجسم تھا ، سراپہ وحشی

۳۶۰ خداوں سے بسی تھی بستی

شکر اللہ کا ایسے میں رسول عربی

آئے انسان کو انسان بنانے کے لیے

 

 

آدمی نے آدمی کے مرتبے کو پا لیا

آئینہ وہ آدمیت کو دکھایا آپ نے

آپ کے احسان اتنے جن کا گننا بھی محال

سچ یہ ہے کہ انسان کو انسان بنایا آپ نے

ایک ہی صف میں کھڑا کر کے گدا و شاہ کو

امتیازِ بندہ و آقا مٹایا آپ نے

 

بزم کونین سجانے کے لیے آپ آئے

شمع توحید جلانے کے لیے آپ آئے

 


Looking for a credible platform for guest posts or sponsored content?


 Looking for a credible platform for guest posts or sponsored content?

thenationalduty.com is now accepting editorially reviewed guest blogs from serious agencies and brands.

We prioritize value-driven, informative, and audience-focused content over promotions.

Quality collaborations only.

Explore the details through the link below 👇

Click Here for more info



#GuestBlogging  

#GuestPostOpportunities  

#SponsoredContent  

#ContentCollaboration  

#DigitalPR  

#EditorialIntegrity  

#ThoughtLeadership  

#QualityContent  

#PublicInterest  

#SocialSciences  

#EthicalMedia  

#TheNationalDuty


تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی | میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا


 

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

مولا علی کے نور نظر ہو

پیارے نبی کے لختِ جگر ہو

مجھ پہ عنایت شام و سحر ہو

سیدِ محترم کر دو کر دو کرم

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

جس نے بھی تم کو دکھ میں پکارا

اس کو دیا ہے تم نے سہارا

میرا بھی دامن بھر دو خدارا

والئی بے کساں خواجۂ خواجگاں

میرے خواجہ پیا ممیرے خواجہ پیا

عثماں کے پیارے دکھیوں کے والی

کوئی بھکاری کوئی سوالی

در سے تمہارے لوٹا نہ خالی

تم نے سب کو دیا صدقۂ چشتیہ

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

یاد جو آئے تمری نگریا

چندا کے جیسی توری اٹریا

تڑپوں میں جیسے جل بِن مچھریا

اب تو کرپا کرو ہاتھ سر پہ دھرو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

نصرت ہے تم پر قربان خواجہ

انور کا ہے یہ ارمان خواجہ

کر دو مجاہد پہ احسان خواجہ

اک نظر ڈال دو مشکلیں ٹال دو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

میری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی | پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ | meri zeest purmusarrat


میری  زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

مجھے حُسن نے ستایا، مجھے عشق نے مِٹایا

کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

 

میں یہ جانتے ہوئے بھی، تیری انجمن میں آیا

کہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

جو ہے گردشوں نے گھیرا، تو نصیب ہے وہ میرا

مجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

 وہ جو بے رُخی کبھی تھی وہی بے رُخی ہے اب تک

 مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

 وہ جو حکم دیں بجا ہے، مراہر سُخن خطا ہے

اُنہیں میری رُو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

تِرے در سے بھی نباہے، درِ غیر کو بھی چاہے

مرے سَر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

 تِرا نام تک بُھلا دوں، تِری یاد تک مٹا دوں

مجھے اِس طرح کی جُرات کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

تُو اگر نظر ملائے، میرا دَم نکل ہی جائے

تجھے دیکھنے کی ہِمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

جو گِلہ کِیا ہے تم سے، تو سمجھ کے تم کو اپنا

مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

تِرا حُسن ہے یگانہ، تِرے ساتھ ہے زمانہ

مِرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

یہ کرم ہےدوستوں کا، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سے

کہ نصیرؔ پر عنایت، کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی

 

پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ

چھڑا کر پستیاں ہمسایۂِ افلاک کر ڈالا | خوبصورت نعتیہ کلام


 

چھڑا کر پستیاں ہمسایۂِ افلاک کر ڈالا

مقدر میں مجھے راہِ نبی کی خاک کر ڈالا

 

یہ میرے ذہن کی مٹی اگرچہ باہنج تھی پہلے

مزاجِ سنگ کو پھر آپ نے نم ناک کر ڈالا

 

زمیں پر آمنہ کے چاند کی جب رو نمائی تھی

فلک پر چاند نے اپنا گریباں چاک کر ڈالا

 

غلاظت لے کے آنکھوں میں کبھی کا سو رہا تھا میں

انہوں نے خواب میں آ کر نظر پاک کر ڈالا

 

جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم | jane kab hon ggai kam is duunya kai ghgam lyrics


 

جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم

جینے والوں پہ سدا بے جرم و خطا ہوتے آئے  ہیں ستم

 

 کیا جس نے گلہ ملی اور سزا

کئی بار ہوا یہاں خون وفا

بس یہی ہے صلہ

دل والوں نے دیا

یہاں دار پے دم

 

 جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم

 

کوئی آس نہیں

 احساس نہیں

دریا بھی ملا

 بھجی پیاس نہیں

اک ہم ہی نہیں،

جسے دیکھو یہاں

وہی آنکھ ہے نم

 

جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم

جینے والوں پے سدا بے جرم و خطا ہوتے رہے ہیں ستم

جندڑی لٹی تئیں یار سجن jindari lutti lyrics


 

جندڑی لٹی تئیں یار سجن

کدیں موڑ مہاراں تے آ وطن

 

تییر روہی دیاں کندھاں کالیاں

میڈیاں ڈکھن کناں دیاں والیاں

اساں راتاں ڈکھاں وچ جالیاں

روہی بنائوئی چا وطن

 

تری روہی دی عجب بہار دسے

جتھے میں نمانی دا یار ڈسے

جتھاں عاشق لکھ‍ ہزار ڈسے

اتھاں میں مسافر بے وطن

 

تیڈی روہی دے کنڈڑے بیریاں

وے جھوکاں آ وساں ہن میریاں

وے میں تیری آں وے میں تیری آں

وے روہی بنائیوای جا وطن

 

کدی یار فرید آوے ہاں

مینڈی اجڑی جھوک وساوے ہاں

میں روندی کوں گل لاوے ہاں

کیوں جا بنائیوئی کیچ وطن